کشش جاذبہ
معنی
١ - قوت، کشش، اپنی طرف کھینچنے والی قوت۔ "جس وقت زمین کی کشش جاذبہ سیب گرنے کی علت بنی تو . زمین سیب کو چھو نہیں رہی تھی۔" ( ١٩٥٦ء، افکار حاضرہ، ٢٢٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کشش' بطور مضاف کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی صفت 'جاذبہ' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٥٦ء کو "افکار حاضرہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قوت، کشش، اپنی طرف کھینچنے والی قوت۔ "جس وقت زمین کی کشش جاذبہ سیب گرنے کی علت بنی تو . زمین سیب کو چھو نہیں رہی تھی۔" ( ١٩٥٦ء، افکار حاضرہ، ٢٢٧ )